Sunday, February 23, 2014

Research Paper

On
Impact of Oriental Studies on Indo-Arab Relations.

عرب و ہند تعلقات پر مشرقی علوم و فنون کے اثرات
2014




Submitted by: Dr Mohammad Salman Khan
                         











Assistant Professor
Department of Arab Culture
Faculty Of Art
Mumtaz P G College lucknow



تمہید         
عرب اور ہندوستان کے تعلقات پر مشرقی علوم کے اثرات یہ ایک ایسا موضوع ھے جس پر بہت تحقیق کی ضرورت ھے ، کیونکہ یہ دونوں ممالک آزاد اور غیر جانبدار ہیں ، اور دونوں کا علمی، سیاسی اور سماجی تعلق زمانہ قدیم سے رہا ہے ،  بڑے بڑے محققین اور اسکالرس کا ماننا ھے کہ یہ تعلق صرف ایک ہزار سال پرانا نہیں بلکہ جب سے حضرت آدم علیہ السلام کو اس دنیا پر اتارا گیا اسی وقت سے قایم ھے ، غلام علی آزاد بلگرامی نے اپنی کتاب ( سبحۃ المرجان فی آثار ہندوستان ) میں ایک پوری فصل اس پر قائم کی ھے ، اس لئے سب سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ھے کہ دونوں ممالک کے تعلقات جن کا دائرہ بہت وسیع ہے اور جو متعدد زندگی کے پہلوؤں کو محیط ھے ذکر کر دیا جائے ۔
      اس ضمن میں ہماری گفتگو دونوں ممالک کے علمی ، سیاسی، سماجی اور تہذیبی روایات اور رشتوں کے ذکر کے ساتھ ان دونوں کے روابط پر مشرقی علوم وفنون کے جو اثرات مرتب ہوئے مرکوز ھو گی ، جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ دونوں کا تہذیبی اشتراک اور میل جول بڑا پرانا ھے ، اور اس بات کے پختہ ثبوت موجود ھیں کہ دونوں ممالک کے تجارتی قافلے بہت سے ممالک سے گزرتے ھوے آیا جایا کرتے تھے ، اور اپنے ساتھ دونوں ممالک کے رسم ورواج اور مشترک علوم و فنون کے ورثہ کو بھی اپنے ساتھ لے جاتے تھے یھی نہیں بلکہ دونوں جانب آباد ہونے اور بسنے کی روایت بھی قائم تھی ، عرب باشندے ہندوستان آکر آباد ہوے اور ھندوستانی خاندان کے خاندان عرب ممالک میں جا بسے ، دونوں ممالک کی تھذیبی روایات اور علوم وفنون کے اثرات نے ایک دوسرے کو بیحد متاثر کیا ۔
      تاریخی روایات کو دیکھتے ھوے بجا طور پر کہا جا سکتا ھے کہ قدیم دور میں ھندوستان کے سب سے نذدیکی روابط خواہ تعلیمی ھوں یا تجارتی ، تھذیبی و تمدنی ھوں یا سیاسی و سماجی عرب ممالک سے تھے ، جو ان سے بڑے قریب تھے اور درمیان میں سمندر حائل تھا ایک طرف بحر ھند تو دوسری جانب بحیرہ عرب ، زمینی راستے بھی تھے جو کافی طویل مسافت پر محیط تھے ، افغانستان ، ایران اور عراق کے راستے مصر اور شام ھوتے ھوئے لوگ بلاد عرب میں داخل ھوتے تھے ، اور سمندری راستوں سے بحر عرب سے گزرتے ھوے عرب جہاز عراقی بندرگاہوں سے چل کر سندھ گجرات اور کیرل کے راستے دکھنی لنکا اور چین تک پہونچتے تھے ، تجارتی اور علمی لین دین نے دونوں ممالک کے باشندوں کے دلوں کو بھی ایک دوسرے سے قریب کر دیا تھا ، اسی علمی اور تھذیبی رابطے نے انھیں ایک دوسرے کی زبان سیکھنے پر مجبور کیا ، دور قدیم ھی سے ھندوستان میں عربی زبان سیکھنے کا رواج شروع ھو چکا تھا ، بالخصوص ساحلی علاقے کے لوگ عربی زبان بولنے لگے تھے ، اور ھندوستان میں مستعمل اور رائج الفاظ عربوں میں رواج پانے لگے تھے، ھم آئندہ صفحات میں عربی زبان وادب کے رواج اور تھذیبی و ثقافتی اخذ وعطا پر تحریر کریں گے لیکن اس سے  قبل مشرقی زبانوں کا عربی زبان سے اتصال اور اسکے اثرات پر ایک جائزہ پیش کر رھے ھیں ۔
      مشرقی زبانوں پر عربی کے عمیق اثرات
یہ طے شدہ بات ھے کہ عربی زبان ہزاروں سال گزرجانے کے باوجود بھی قدیم نہیں ھوی بلکہ اس کی جدت ابتداء سے تھی اور تا قیامت باقی رھے گی ، زبانوں پر تحقیق کرنے والے حضرات اس بات سے بخوبی واقف ھیں کہ ہر زبان میں 25 سے 30 سال کے عرصہ ھی میں تبدیلی رونما ھونے لگتی ھے اور تقریبا 3 سو سال کے عرصہ میں وہ بہت کچھ اپنی اصلی شکل کھو دیتی ھے لیکن عربی زبان کے بارے میں ایسا نہیں کہا جا سکتا کیونکہ جاھلی دور کے ادبی وتھذیبی ورثے جو کچھ بھی ھمیں مل پائے ھیں انکا اگر جدید دور کی عربی سے موازنہ کیا جائے تو معلوم ھو گا کہ انمیں پوری جدت قائم ھے ، پھر اسلام آنے کے بعد تو عربی زبان زندہ جاوید زبان بن گئی خدا وند کریم نے اس کی حفاظت ابدی کا وعدہ فرمادیا ( انا نحن نزلنا الزکر وانا لہ لحافظون)  میں یہ کہ رھا تھا کہ مشرقی زبانیں مثلا فارسی، ترکی ، اردو، جاوی، افغانی اور سندھی زبانوں پر عربی کے گہرے اثرات پڑے اور ان زبانوں کا رسم الخط بھی عربی سے ملتا جلتا ھے ،   فارسی زبان پرانے زمانے میں قدیم فارسی حروف میں لکھی جاتی تھیں، مگر اہل فارس نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی اصلی زبان کے حروف متروک کر دئیے اور اس کی کتابت کے لئے عربی حروف کو اختیار کیا،
عربی زبان اپنی مکمل روح کے ساتھ پروان چڑھی اور جملہ تہذب وتمدن کا پیغامبر ثابت ہوئی، مشرق ومغرب میں اس نے اپنے پرچم لہرائے، الفاظ کی سلاست وروانی کی ہی بناء پر غیر عرب قوموں نے بھی اسے اختیار کیا، اور آج وہ کثیر قومی زبان بن کر ابھری ہے، دنیا کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں سے ایک ہے۔
بیشک وہ حضرات جو اس کے قدامت پر حرف رکھتے ہیں، در حقیقت وہ خود اس کے حاجت مند ہیں۔
عربی الفاظ کی کثرت سے ان زبانوں میں داخل ہوئے کہ ان کا شمار نہیں کیا جاسکتا، بسا اوقات ان زبانوں میں پورے کے پورے جملے اور اشعار ایسے ملیں گے، جو تقریباً عربی کلمات ہی سے بنائے گئے ہیں جیسے اردو میں اس کی مثال اقبال کا یہ شعر ہے ۔
یقیں   محکم   عمل  پیہم  ،  محبت  فاتح عالم
جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں
اقبال کے اس شعر کا پہلا مصرع سات ایسے کلمات پر مشتمل ہے، جن میں چھہ عربی ہیں ،اور فارسی میں حافظ شیرازی کا قول :
ثبت است بر جریدۂ عالم دوام ما
کل سات کلمات پر مشتمل ہے جن میں چار عربی ہیں۔
ہندوستان میں عربی زبان اور عرب تھذیب وتمدن کا ارتقاء
زمانہ نے  ایک کروٹ لی اور ھندوستان میں عرب کلچر اور عربی زبان و ادب کا چلن شروع ھوا ، اس کی صحیح تعیین قدرے مشکل ھے کہ کب سے عرب کلچر اور عربی ادب کی ھند میں شروعات ھوی ۔ یہ حقیقت ماضی کے دھندلکوں میں رو پوش ہے، ہاں یہ امر تسلیم شدہ ہے کہ عرب وہند کے روابط بہت قدیم زمانہ سے ہیں اسلام سے کہیں پہلے کے ان کے یہ تعلقات تجارتی تھے، عرب وہند کے باشندے ایک دوسرے کے ملک جاتے، مادی لین دین کے ساتھ ساتھ ان کے درمیان تہذیبی وثقافتی اخذ وعطا بھی ہوتا، اس طرح انھوں نے مافی الضمیر ادا کرنے کے لئے ایک دوسرے کی زبان سے کچھ نہ کچھ ضرور سیکھا۔
در حقیقت ہندوستان پر عربی کی عمیق وعریض ضوفشانیاں اور تابانیاں، صحیح معنوں میں طلوع اسلام کے بعد دوسری صدی ہجری میں نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہیں، اہل عرب سندھ آئے، دینی وعلمی اور سیاسی بالا دستی کا ثبوت دیا، کم وبیش دو سو سال تک وہاں کا نظم ونسق ان کے ہاتھوں میں رہا، حکمراں طبقہ اور امراء وعاملین عربی بولتے۔ (سندھی عوام کی بول چال میں رہی لیکن عربی کے اثرات مقامی زبان پر تیزی سے بڑھتے رہے۔
چوتھی صدی ہجری کی ابتداء میں دیلمیوں کی ہندوستان میں آمد اور سندھ سے عربوں کے اقتدار کے خاتمہ کے بعد فطری طور پر عربی کے چلن میں کمی آئی، رفتہ رفتہ فارسی نے اس کی جگہ لے لی، عربی مسلمانوں کی صرف دینی ومذہبی زبان کی حیثیت سے باقی رہی، قرآن وحدیث اور دیگر علوم اسلامی کے براہ راست افہام وتفہیم اور تعلیم وتعلم کے لئے اس کا جاننا ضروری تھا۔
ہندوستان کے طول وعرض سے مشتاقان سفراء اور یاران تیز گام ، رواں دواں نظر آئے، وافر مقدار میں زاد راہ اکٹھا ہوا اور منزل بہ منزل پیش قدمی ہوتی رہی۔
ہندوستان میں اسلامی علوم وفنون ور عربی زبان وادب تیزی سے نشو ونما پارہے ہیں، عہد حاضر کی صنعتی اور مشینی سہولتوں ، رسل وسیائل کے ترقی یافتہ اور تیز رفتار وسائل آمد ورفت ، اور درآمد وبرآمد کی آسانیوں ، ریڈیو، صحافت اور ابلاغ وتبلیغ کے دیگر ذرائع اور مجاہدین ملت کی سرگرم کوشوں  نے     اس مقصد عظیم کو مزید تقویت پہونچائی ، ہندوستانیوں کی عربی زبان منجھتی جا رہی ہے، سلاست وروانی اور پاکیزگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔



) تفصیل کے لئے دیکھیں
(1) سبحۃ المرجان ص ۱۳۵ ،  غلام علی آزاد بلگرامی
(2)مقالات شبلی مطبع معارف ۱۹۳۶
’’(3)دراسات فی العربیۃ وتاریخھا ‘‘محمد خضر حسین
(4)عربی ادب کی تاریخ ص: ۷۶ ، عبد الحلیم ندوی، مطبوعہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی۔
قلمی۔
(5)اطیب النغم ص: ۲۹ ، شاہ ولی اللہ ، مطبع منشی امدج علی مراد آباد ۱۳۳۵





Dr. Mohammad Salman Khan
Astt. Professor, Dept of Arab Culture
Mumtaz PG College Lucknow (India)
Email: drsalmannadwi@gmail.com
Mob: 09936244415

Postal Address: 536/ 417 Makka Gunj Khadra Near Shia PG College Lucknow. India



गर्भपात करवाना गलत है

गर्भपात करवाना गलत है, कृपया इस लेख को अवश्य पढ़े और अगर इसे पढ़ कर आपके दिलकी धड़कने बढ़ जाये तो शेयर अवश्य करे

गर्भस्थ बच्ची की हत्या का आँखोँ देखा विवरण..
.
अमेरिका मेँ सन 1984 मेँ एक सम्मेलन हुआ था

'
नेशनल राइट्स टू लाईफ कन्वैन्शन'

इस सम्मेलन के एक प्रतिनिधि ने डॉ॰ बर्नार्ड नेथेनसन के द्वारा गर्भपात की बनायी गयी एक अल्ट्रासाउण्ड फिल्म 'साइलेण्ट स्क्रीम' (गूँगी चीख) का जो विवरण दिया था, वह इस प्रकार है-

'
गर्भ की वह मासूम बच्ची अभी दस सप्ताह की थी व काफी चुस्त थी ।

हम उसे अपनी माँ की कोख मेँ खेलते, करवट बदलते वअंगूठा चूसते हुए देख रहे थे ।


उसके दिल की धड़कनोँ को भी हम देख पा रहे थे और वह उस समय 120 की साधारण गति से धड़क रहा था ।
सब कुछ बिलकुल सामान्य था; किँतु जैसे ही पहले औजार (सक्सन पम्प) ने गर्भाशय की दीवार को छुआ, वह मासूम बच्ची डर से एकदम घूमकर सिकुड़ गयी और उसके दिल की धड़कन काफी बढ़ गयी ।
हलाँकिअभी तक किसी औजार ने बच्ची को छुआ तकभी नहीँ था, लेकिन उसे अनुभव हो गया था कि कोई चीज उसके आरामगाह, उसके सुरक्षित क्षेत्र पर हमला करने का प्रयत्न कर रही है ।
हम दहशत से भरे यह देख रहे थे कि किस तरह वह औजार उस नन्हीँ- मुन्नी मासुम गुड़िया-सी बच्ची के टुकड़े-टुकड़े कर रहा था ।
पहले कमर, फिर पैर आदि के टुकड़े ऐसे काटे जा रहे थे जैसे वह जीवित प्राणी न होकर कोई गाजर-मूली हो और वह बच्ची दर्द से छटपटाती हुई, सिकुड़कर घूम-घूमकर तड़पती हुई इस हत्यारे औजार से बचने का प्रयत्न कर रही थी ।
वह इस बुरी तरह डर गयी थी कि एक समय उसके दिल की धड़कन200 तक पहुँच गयी ! मैँने स्वयं अपनी आँखोँ से उसको अपना सिर पीछे झटकते व मुँह खोलकर चीखने का प्रयत्न करते हुए देखा, जिसे डॉ॰ नेथेनसन ने उचित ही 'गूँगी चीख' या 'मूक पुकार' कहा है ।
अंत मेँ हमने वह नृशंस ववीभत्स दृश्य भी देखा, जब सँडसी उसकी खोपड़ी को तोड़ने के लिए तलाश रही थी और फिर दबाकर उस कठोर खोपड़ी को तोड़ रही थी; क्योँकि सिर का वह भाग बगैर तोड़े सक्शन ट्यूब के माध्यम से बाहर नहीँ निकाला जा सकता था ।'
हत्या के इस वीभत्स खेलको सम्पन्न करने मेँ करीब पन्द्रह मिनट का समय लगा और इसके दर्दनाक दृश्य का अनुमान इससे अधिक और कैसे लगाया जा सकता है कि जिस डॉक्टर ने यह गर्भपात किया था और जिसने मात्र कौतूहलवश इसकी फिल्म बनवा ली थी, उसने जब स्वयं इस फिल्म को देखा तो वह अपना क्लीनिक छोड़कर चला गया और फिर वापस नहीँ आया !

تاثیر العلوم الشرقیۃ فی تعزیز العلاقات العلمیۃ والثقافیۃ بین الھند والبلدان العربیۃ

تاثیر العلوم الشرقیۃ فی تعزیز العلاقات العلمیۃ والثقافیۃ بین الھند والبلدان العربیۃ

د۔ محمد سلمان خان الندوی
             الاستاد المساعد فی کلیۃ ممتاز لکناو الھند


       الحمد للہ المتوحد بصفات الکمال، والصلاۃ والسلام علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا ، اما بعد :
صاحب السعادۃ رئیس ھذہ الجلسۃ والسادۃ الحضور ، یسرنی ان احییکم بتحیۃ الاسلام تحیۃ من عند اللہ مبارکۃ طیبۃ موضوع البحث الیوم ، تاٗثیر العلوم الشرقیۃ علی تعزیز الثقافات بین الھند والدول العربیۃ ۔
       فلنعلم ایھا السادۃ الحضور ، ان الترابط الثقافی والاجتماعی والسیاسی والعلمی بین الھند والدول العربیۃ لیس حدیثا یرجع تاریخہ الی خمسۃ الاف سنین ، وقد اثبتت الحفریات الاثریۃ اتصالھما منذ عھود ھربا ( ( Harappa، وکان العرب وسطاء بین الھنود فی التجارۃ والاتصال العلمی والسیاسی والحضاری ، واکثر من ذلک کان ھذا الترابط قائما بعواطف الحب والصداقۃ ، ولذلک نجد بینھما اتصالا فکریا وعقدیا و ثقافیا ، والمورخون امثال العلامۃ السید سلیمان الندوی والشیخ غلام علی آزاد البلغرامی یرون ان ھذا الاتصال کان قائما منذ زمن ھبوط آدم من السماء الی الدنیا فی وادی سیلان دجنا معناہ فی العربیۃ الجنوب ، وقد افرد الشیخ غلام علی آزاد البلغرامی فصلا خاصا حول ھذا الموضوع ، یقول :
       قد اودع الخلاق آدم نورہ         متلاٗلئا کالکوکب الوقاد
       والھند مھبط جدنا ومقامہ         قول صحیح جید الاسناد (۱)
تاثیر المعارف والعلوم الشرقیۃ علی ثقافات الھند والدول العربیۃ
       ایھا الاخوۃ : اری مناسبا ان اذکر تاثیر العلوم الشرقیۃ علی تعزیز الثقافات بین الھند والدول العربیۃ ، ھناک اشتراک وتوافق بیّن فی الحیاۃ الفکریۃ والاجتماعیۃ واللغویۃ بین الھند والدول العربیۃ ، ولھا ثوابت وحقائق تدل علی ان القوافل التجاریۃ تغدو وترحل من ھنا الی ھنا وتبادل الثقافات واللغات والطقوس والعادات فکانت تختلف الی نواحی الھند والبلدان العربیۃ وکانت مستوطنات العرب قائمۃ فی جنوب الھند قبل الغزو العربی والفتح الاسلامی ، و یستوطن اھل الھند فی البلدان العربیۃ ویقیمون اواصر الحب والصداقۃ معھم ، وبھذا الترابط تقاربت السنتھم وافئدتھم واستخدموا اللغات والآداب الشرقیۃ فی محاوراتھم وکتاباتھم وتبادلوا الآراء من سکان البلدان الشرقیۃ ، فھناک تاثیر کبیر وانضمام ھام بین اللغات الشرقیۃ کاللغۃ الفارسیۃ والترکیۃ والاردیۃ ، والجاویۃ والافغانیۃ والسندیۃ وغیرھا من اللغات والالسن۔ (۲)
       اذا استعرضنا التوافق والتبادل فی العلوم واللغات الشرقیۃ نجد ھناک امثلۃ ونمازج کثیرۃ تدل علی ھذا التوافق ، کما ان اللغۃ الفارسیۃ کانت فی قدیم الزمان ترسم فی حروف اللغۃ الفارسیۃ القدیمۃ وھی مختلفۃ مما تکتب الآن ، وقد حدث ھذا التغییر بعد ما دخل اھل فارس فی دین اللہ افواجا فترکوا حروفھم القدیمۃ واختاروا حروف اللغۃ العربیۃ فی الکتابۃ والحوار ، فھذہ اللغات الشرقیۃ متقاربۃ جدا باللغۃ العربیۃ و تستخدم کلمات اللغۃ العربیۃ عامۃ فی اللغۃ الاردیۃ والفارسیۃ وغیرھا من اللغات الشرقیۃ (۳)، نقدم نموزجین من الشعر الاردی والفارسی و بذالک یمکن لنا ان نفھم کیف تدخلت العربیۃ فی ھاتین اللغتیں ، الشاعر الاسلامی الشھیر العلامۃ اقبال یقول :
       یقیں  محکم  عمل  پیھم  محبت  فاتح  عالم
       جھاد زندگانی میں ھیں یہ مردوں کی شمشیریں
استخدم الشاعر سبع کلمات فی الجزء الاول من ھذا البیت ستۃ منھا کلمات عربیۃ ،
       وفی بیت فارسی یقول الحافظ الشیرازی :
       ثبت است بر جریدہ عالم دوام را     اربعۃ منھا کلمات عربیۃ
تبادل العلوم الشرقیۃ بعد ظھور الاسلام :
      اذا استعرضنا  تبادل الثقافات والآداب الشرقیۃ بعد ظھور الاسلام فنجد انھا بدت منذ بداٗ الاسلام ولکنھا استحکمت فی القرن الاول فی منتصف القرن الثامن المیلادی حینما تاسست الخلافۃ العباسیۃ ، فمنذ ذلک الحین بداٗ عمل تبادل الآراء والافکار، والقیم والثقافات العلمیۃ والاجتماعیۃ، وقد ترجمت کتب العلوم الشرقیۃ الی اللغۃ العربیۃ فی مواضیع مختلفۃ من الطب، والریاضیۃ ، وعلم الفلک، تحت رعایۃ الخلفاء العباسیین وخاصۃ تحت رعایۃ الخلیفۃ ھارون الرشید۔ (4)
       وقد عرف العرب الادب الھندی العلمی لاول مرۃ فی عھد الخلیفۃ ھارون الرشید حینما قام وفد ھندی بترجمۃ کتاب (Surya Siddhanta(  ویشیر الیہ السید سلیمان الندوی نقلا عن الجاحظ ان یحیی بن خالد البرمکی دعا العلما ئ والاطبائ الممارسین  مثل منکا وبلھا وبازغر وسندباد الی بغداد۔
       وتاریخ  بیت الحکمۃ (VISDOM HOUSE ( تاریخ مضییٔ مشرق فی تاریخ الحضارۃ والعلوم الشرقیۃ انشاٗھا الخلیفۃ مامون الرشید عام ثمان مائۃ وثلاثین فی بغداد ، وکانت مکتبۃ واکادیمیۃ ووکالۃ للترجمۃ ، فالتبادل العلمی والادبی قد عم وانتشر فی عھد الخلافۃ العباسیۃ واطلع العرب من التطورات التی حدثت فی مجال الفلک والریاضیات والطب فی الھند ، والکاتب الشھیر ابو ریحان البیرونی قد ذکر جھود العلماء الھندیین فی مجال علم الفلک والریاضیۃ واستفاد کثیر من الباحثین العرب من اعمال العلماء الھندیین امثال محمد بن موسی الخوارزمی وحبش بن عبد اللہ بن مروازی والآخرین ۔ (۵)
       وبعد العصر العباسی قد انخفض التبادل العلمی والثقافی بین الھند والدول العربیۃ ولکن النھضۃ العلمیۃ فی اواخر القرن التاسع عشر قادت الی تشجیع تجدید الترجمۃ من اللغۃ العربیۃ الی اللغۃ الھندیۃ ، وترجمت اعمال الشخصیات امثال طاغور والعلامۃ اقبال من قبل علماء الھنود ومصر والدول العربیۃ الاخری ، ھناک قائمۃ طویلۃ من العلماء الھنود اللذین سعوا فی تقدیم التبادل العلمی والثقافی بین الھند والدول العربیۃ لایمکن لنا ان نذکر جمیع الاسماء ولکن اللذین نالوا الشھرۃ الفائقۃ فیما بینھم ھم العلامۃ اشرف علی التھانوی و محمد انور شاہ الکشمیری والسید ابی الحسن علی الحسنی الندوی والقاضی اطھر علی المبارکفوری، والسید سلیمان الندوی ، وغلام علی آزاد البلغرامی ، والنواب صدیق حسن خان والآخرین ۔
      خلاصۃ البحث
       درسنا فی ھذا البحث تاثیر العلوم الشرقیۃ فی تعزیز العلاقات بین الھند والدول العربیۃ ، فاولا تناولنا فی البحث تاریخ الصلۃ القائمۃ بین ھاتین الدولتین علما وادبا واجتماعا، ثم ذکرنا الاسباب والعوامل التی ادت الی تبادل الثقافات والطقوس والعادات لاھالی البلدۃ الھندیۃ والعربیۃ ، وفی نھایۃ البحث ذکرنا صلۃ التبادل العلمی والحضاری بعد ظھور الاسلام ، ذکرنا فیہ العھد الاسلامی منذ بدایتہ واستعرضنا استعراضا واقعیا منذ بدایۃ عھدہ الی العصر الحدیث الراھن ۔





المصادر والمراجع
 (1) سبحۃ المرجان ص ۱۳۵ ،  غلام علی آزاد بلگرامی
(2)مقالات شبلی مطبع معارف ۱۹۳۶
 (3)دراسات فی العربیۃ وتاریخھا ‘‘محمد خضر حسین
(4)عربی ادب کی تاریخ ص: ۷۶ ، عبد الحلیم ندوی، مطبوعہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی۔
قلمی۔
(5)ثقافۃ الھند المجلد 61 العدد ۱ ، ۲۰۱۰ 




Dr. Mohammad Salman Khan
Astt. Professor, Dept of Arab Culture
Mumtaz PG College Lucknow (India)
Email: drsalmannadwi@gmail.com
Mob: 09936244415


Postal Address: 536/ 417 Makka Gunj Khadra Near Shia PG College Lucknow. India